اڈپی 3/ستمبر(ایس او نیوز) کچھ دن پہلے ساحل آن لائن نے خبر دی تھی کہ این آر آئی کروڑ پتی تاجر مسٹر بی آر شیٹی کی طرف سے اڈپی میں ہائی ٹیک سوپر اسپیشالٹی اسپتال کے قیام کو سرکار کی طرف سے ہری جھنڈی دی گئی ہے۔ لیکن اب عوامی رائے سرکار کے اس اقدام کے خلاف دکھائی دے رہی ہے۔
دراصل کچھ دہائیوں قبل سماجی خدمت گار اور کارپوریشن بینک کے بانی حاجی عبداللہ نے عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اڈپی کے اجرکاڈ نامی علاقے میں سرکاری اسپتال قائم کرنے کے لئے زمین عطیہ کی تھی۔ وہاں پر ایک سرکاری اسپتال قائم بھی ہوا اور کافی زمین خالی بھی پڑی ہوئی تھی۔ اس اسپتال کو ترقی دے کر جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لئے عوام کا مطالبہ بھی تھا اور سرکار اس پر غور بھی کررہی تھی۔ مگر اپنے طورپر اسے جدید اسپتال میں تبدیل کرنے کے بجائے اب حکومت نے اسے نجی ہاتھوں میں دینے کا فیصلہ کیا اس طرح اسپتال اوراس سے ملحقہ زمین شیٹی کی کمپنی BRS Ventures Pvt Ltd کو دینے کے لئے کابینہ نے منظوری دیدی۔
اس بات کو لے کرعوام میں بے اطمینانی اور مخالفت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ سوشیل میڈیاپر جاری بحث میں لوگوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ریاستی حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے فرانسس نامی ایک شخص نے ٹوئیٹر پر سوال کیا ہے کہ پرائیویٹ اسپتال پیسہ کمانے کے لئے قائم ہورہے ہیں۔وہاں غریبوں کا علاج کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اور اگر زندگی کی ہر ضرورت کو نجی ہاتھوں میں دے کر پورا کرنا ہے تو پھر یہاں حکومت کی ضرورت ہی کیا ہے؟
بی جے پی کے سابق ایم ایل اے رگھوپتی بھٹ کا کہنا ہے کہ حاجی صاحب نے یہ زمین عام آدمی کو فائدہ پہنچانے کی نیت سے سرکاری اسپتال کے لئے عطیہ کی تھی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
پروفیسر کے پنی راج کا کہنا ہے کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ خدمت کے نام پرمالداروں کے طرف سے ہائی ٹیک اسپتال قائم کیے جارہے ہیں جہاں متوسط طبقہ اور غریبوں کو علاج کی سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ جبکہ ایک اور سابق ایم ایل اے سبھا پتی نے کہا کہ اس سے پیلے ایس ایم کرشنا کے دور اقتدار میں اس اسپتال کو کستوربا میڈیکل کالج کے حوالے کرنے کی بھی تیاری ہوئی تھی، مگر عوام کی مخالفت کی وجہ سے حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا تھا۔
اسی دوران اڈپی ضلع مسلم اوکوٹا نے حکومت کے اس اقدام کی کھل کر مذمت کی ہے۔اور اس کے خلاف مورچہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں مسلم اوکوٹا نے اپنی میٹنگ میں دس اراکین پر مشتمل ایک احتجاجی کمیٹی تشکیل دی ہے۔